Zindagi Quotes in Urdu. Zindagi is a journey of emotions, challenges, and growth. In this post, we’ll explore some of the most thought-provoking and inspiring Urdu quotes on life, offering wisdom, strength, and a deeper understanding of our existence.
Above 40+ Urdu Quotes on Zindagi
اگر کوئی پوچھے زندگی کیا ہے
ہاتھ پہ رکھ کے اک شمع جلا دینا
مجھے انتظار ہے زندگی کے آخری پنوں کا
سنا ہے آخر میں سب ٹھیک ہو جاتا ہے
موت کا بھی علاج ہو شاید
زندگی کا کوئی علاج نہیں
زندگی تو سستی ہے
گزارنے کے طریقے مہنگے ہیں
نہ ہارنا ضروری ہے نہ جیتا ضروری ہے
یہ زندگی ایک کھیل ہے کھیلنا ضروری ہے
موت تو یونہی بدنام ہے
تکلیف تو زندگی دیتی ہے
اے زندگی تو خود ہی بتا میں تجھ سے کیسے پیار کروں
تیری ہر ایک صبح میری زندگی کا ایک دن گھٹا دیتی ہے
زندگی نے کچھ اس قدر ستایا ہے
مختصر خوشی دے کر مستقل رلایا ہے
سفر کا مزہ لینا ہو تو ساتھ سامان کم رکھئیے
اور زندگی کا مزہ لینا ہو تو دل میں ارمان کم رکھئیے
رولائے بغیر تو پیاز نہیں کٹتا صاحب
پھر تو یہ زندگی ہے ایسے کیسے کٹ جائے گی
زندگی جیسے جلانی تھی ویسے جلا دی ہم نے
اب دھوئیں پر بحث کیسی اور راکھ پر اعتراض کیسا
اٹھانا خود ہی پڑتا ہے تھکا ٹوٹا وجود اپنا
جب تک سانس چلتی ہے کوئی کندھا نہیں دیتا
ایک آئیڈیل زندگی بسر کرنے کے لیے
کھانا آدھا کریں
واک کو ڈبل کریں
مسکرانا تین گنا کردیں
اور لوگوں کے ساتھ محبت چار گنا کر دیں
مضبوط اور ثابت قدم رہو
زندگی ماں نہیں ہے جو ترس کھائے گی
خواہشیں جتنی طویل ہوتی ہیں
زندگی اتنی ہی پیچیدہ ہو جاتی ہے
جب آپ کھلونے رکھ دیتے ہو
تب زندگی آپ کے ساتھ
کھیلنا شروع کر دیتی ہے
زندگی اچھی پلاننگ کی وجہ سے نہیں
بلکہ اچھی سوچ کی وجہ خوبصورت اور دلچسپ بنتی ہے
زندگی میں ملتا تو بہت کچھ ہے
بس ہم حساب اسی کا رکھتے ہیں جو نا مل سکا
مشکلوں سے بھاگ جانا آسان ہوتا ہے
ہر پہلو زندگی کا امتحان ہوتا ہے
ڈرنے والوں کو نہیں ملتا زندگی میں کچھ
اور لڑنے والوں کے قدموں میں جہاں ہوتا ہے
سانسوں کی مہلت کب ختم ہو جائے معلوم نہیں
درد کوئی ملا ہو ہماری وجہ سے تو معاف کر دینا
بعض اوقات زندگی انسان کو
بہت زیادہ تھکا دیتی ہے
اور انسان
بس چلتے رہنے پر مجبور ہوتا ہے
آہستہ چل اے زندگی کئی قرض چکانا باقی ہے
کچھ درد مٹانا باقی ہے کچھ فرض نبھانا باقی ہے
زندگی جب دکھوں سے بھر جاتی ہے
پھر گزاری نہیں جاتی بس گزر جاتی ہے
بچپن کی ایک غلط فہمی یہ بھی تھی
کہ بڑے ہو کر زندگی دلکش ہو جائے گی
زندگی کے سفر میں
کبھی کبھی ایسے موڑ بھی آتے ہیں
جہاں محنت اور ڈگریاں ہار جاتی ہیں
قسمت اور دعائیں جیت جاتی ہیں
فرق ہوتا ہے جاناں
زندگی جینے اور گزارنے میں
زندگی کیا ہے صاحب
آکر نہا لیا نہا کر چل دیا
سزا تو بہت دی ہے زندگی نے مگر
افسوس یہ نہیں بتایا کہ قصور کیا تھا
بنا دھاگے کے سوئی بن گئی ہے زندگی
گزرتی نہیں مجھ سے بس چبھتی جا رہی ہے
اتنی مختصر سی ہے یہ زندگی کی عمر
کہ جیسے کوئی مکان کے ایک دروازے سے گزرے
اور دوسرے سے باہر نکل جائے