Poetry in Urdu Quotes has a unique way of touching our hearts with its beauty and depth. Urdu quotes express emotions like no other language can. In this post, we are sharing some beautiful thought-provoking Urdu quotes that continue to inspire and resonate with readers worldwide.
Below is 100+ Poetry in Urdu Quotes
انسان جب اندر سے مرجاتا ہے
تو حد سےزیادہ خوش اخلاق ہو جاتاہے
سب کو ہم بھول گئے جوش جنوں میں لیکن
اک تری یاد تھی ایسی جو بھلائی نہ گئی
کون دے گا سکون آنکھوں کو
کس کو دیکھوں کہ نیند آجاۓ
میرا ہر دن خوبصورت بنادیتا ہے تمھارا ساتھ
چند لمحوں کی باتیں اور کچھ پل کا مسکرانا
میں زندگی کا ساتھ نبھاتا چلاگیا
ہر فکر کو دھوئیں میں اڑاتا چلا گیا
سب چھوڑتے جا رہے ہیں آج کل ہمیں
–اے زندگی تجھے بھی اجازت ہے جا عیش کر
اس کے وعدوں کا زکر مت کرو
میں شرمندہ ہوں اعتبار کرکے
دل میں تیری چاہت لبوں پہ تیرا نام ہے
تو محبت کر یا نہ کر یہ زندگی تیرے نام ہے
لینے دے مجھے تو اپنے خیالوں کی تلاشی
میری نیند چوری ہوگئی ہے مجھے شک ہے تجھ پر
وہ نہ آئے گا معلوم تھا اس شام بھی
انتظار اس کا مگر کچھ سوچ کرتے رہے
اپنا معیار بلند کیجیے
ہم اچھے لگیں گے آپ کو
بچھڑ کے تجھ سے کسی اور رفاقت میں
ہمیں تیرے لیے یو نہی اداس ہونا تھا
کہنے والوں کا کچھ نہیں جاتا
سہنے والے کمال کرتے ہیں
کر رہا تھا غم جہاں کا حساب
آج تم یاد بے حساب آئے
میرا وقت مجھ سے بچھڑ گیا
میرا رنگ عوپ بگڑگیا
جو خزاں سے باغ اجڑ گیا
میں اس کی فصل بہار ہوں
درد ہو تو دل میں تو دوا کیجئے
دل ہی جب درد ہو تو کیا کیجئے
سب سے بڑا روگ
کیا کہیں گے لوگ
وقت اعتبار اور عزت ایسے پرندے ہیں
جو اگر اڑجائی تو پھر واپس نہیں آتے
آپ کا اچھا ہونا کوئی مطلب نہیں رکھتا
لوگ اپنے حساب سے ہی چلتے ہیں
آپ کا اچھا ہونا کوئی مطلب نہیں رکھتا
لوگ اپنے حساب سے ہی چلتے ہیں
سادگی کا فتویٰ تو سب دیتے ہیں
مگر مرتا ہر کوئی بے حیائی پر ہے
تنہائیوں میں سکون ہے
محفلوں میں دل ٹوٹ جاتے ہیں
لزت غم عشق کا تم کیا جانو
میں خوش رہا دل کو برباد کر کے
کچھ لوگ اعتبار کے نہیں
احتیاط کے لائق ہوتے ہیں
شام سےآنکھ میں نمی سی ہے
آج پھر آپ کی کمی سی ہے
علامہ اقبال
میں انتہائے عشق ہوں ،تو انتہائے حسن
دیکھے مجھے کہ تجھ کو تماشا کرے کوئی
شور کرتے رہو تم سرخیوں میں آنے کی
ہماری تو خاموشیاں بھی اک اخبار ہیں
کوئی یادوں سے جوڑ لے ہم کو
ہم بھی اک ٹوٹتا سا رشتہ ہیں
ہم مسکرا دیں تو اداسیاں بھی کہتی ہیں
ماشاءاللّٰہ
علامہ اقبال
حیا نہیں ہے زمانے کی آنکھ میں باقی
خدا کرے کہ جوانی تری رہے بے داغ
اللّٰہ نے مرنا حرام قرار رکھا ہے
اور انسانوں نے جینا
گہرے پرسکون اقوال
کبھی خود پہ کبھی حالات پہ رونا آیا
بات نکلی تو ہر اک بات پہ رونا آیا
الجھنے ہوئے کو سجدے
سلجھا دیتے ہیں
یاد اس کی ، ابھی بھی آتی ہے
بری عادت ہے ، کہاں جاتی ہے 💔
بزمِ وفا میں اپنی غریبی ناپوچھ
اک درد دل ہے وہ بھی کسی کا دیا ہوا
وفا اک ایسا دریا ہے جو کبھی
-خشک نہیں ہوتا
پلٹ کر پھر یہی آجائیں گے ہم
وہ دیکھے تو ہمیں آزاد کر کے
گفتگو کے لئے انسان منہ
اپنا کھولتا ہے
مگر تربیت اسکے بڑوں کی
بولتی ہے
جانتا ہوں ایک ایسے شخص کو میں منیر
غم سے پتھر ہوگیا لیکن کبھی رویا نہیں
ایک دھوکا بہت ضروری تھا
اعتبار کی حد سے نکل گیا تھا میں
زندگی کم ہے چاہتوں کے لئے
لوگ کیوں جشن نفرتوں میں جیتے ہیں
! مکمل توڑ کر اے صبر کی تلقین کرتے شخص
ہماری چپ نہیں بنتی ہمارا شور بنتا ہےـ
موت کے ماروں کو تو ہزار کبدھے مل جاتے ہیں
کون چلتا ہے یار وقت کے ماروں کے ساتھ
ہر کسی کو راس آجاؤں ـ
اتنی عام نہیں ہوں میں
وہ بے وفا ہماری تھی کب جو ہر روز کہتی تھی
ہم بس صرف اور صرف تمہارے ہیں جانا
اب اسکی مرضی جلاے یا پھر بجھاۓ رکھے
چراغ ہم نے جلا کر ،ہوا پہ چھوڑ دیا
کھیل رہا ہے کسی کھلونے کی طرح وہ شخص
لے کے میری زندگی اپنے ہاتھوں میں
نہیں ہے کچھ بھی میرے اختیار میں
وہ شخص ہاے مجھ سے بھلایا نہیں جاتا
اپنے ماضی کے تصور سے ہرا ساں ہوں میں
اپنے گزرے ہوئے ایام سے نفرت ہے مجھے
آتی ہے یاد تیری روتا ہے دل میرا
جب آنسو گرتا ہے تو لیتا ہے نام تیرا
محبت تو اک احساس ہے
جس سے ہو جائے بس وہی خاص ہے 💗
آسان نہیں ہیں یادوں کے ویپ جلانا
خون سے جلتی ہے یہ آگ تنہائی کی
عزت نفس جس سے زخمی ہو
دھوپ بہتر ہے ایسی چھاؤں سے
علامہ اقبال
سورج نے دیا اپنی شعاعوں کو یہ پیغام
دنیا ہے عجب چیز ، کبھی صبح کبھی شام
دونوں ہی ایک دوسرے کی ضد ہیں اور تم
اک ساتھ مانگتے ہو، محبت بھی خیر بھی
جو تم نے کبھی کی ہی نہیں
مجھے وہ محبت اداس رکتھی ہے
اداس تو بہت رہے پر کبھی ظاہر نہیں کیا
ٹھیک ہوں بس اس لفظ نے سب سنبھال لیا